امیتابھ بچن کا ہیئر اسٹائل ششی کپور کی نقل

ممبئی: امیتابھ بچن کا شمار بالی ووڈ کے ان ستاروں میں ہوتا ہے جن کا ہر انداز نرالا ہے لیکن اب انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے بالوں کا انداز درحقیقت آنجہانی ششی کپور کی نقل ہے۔ 

بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ میں ششی کپور سے گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ایسا راز افشا کیا ہے جسے آج تک وہ دل میں چھپائے بیٹھے تھے۔ امیتابھ بچن اور ششی کپور نے ایک ساتھ کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا ہے جن میں، سہاگ، شان، ترشول، ایمان، دیوار، دواوردوپانچ، نمک حلال، سلسلہ اور کالا پتھر شامل ہیں۔ دونوں کی جوڑی کو بالی ووڈ میں بے انتہا مقبولیت حاصل ہوئی جب کہ فلم دیوار کا مشہور ڈائیلاگ’ میرے پاس ماں ہے‘تو امر ہوگیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: بھارتی فلموں کے لیجنڈ اداکار ششی کپور چل بسے

اس ڈائیلاگ نے اتنی زیادہ شہرت حاصل کی کہ آج بھی یہ زبان زد عام ہے۔امیتابھ بچن اور ششی کپور بہترین اداکار ہونے کے ساتھ بہت اچھے دوست بھی تھے۔ بگ بی نے اپنے بلاگ میں ماضی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے ششی کپور کو پہلی بار ایک میگزین میں دیکھا تھا جس میں وہ مرسڈیز اسپورٹس کار کے پاس دنیا مافیہا سے لاپرواہ کھڑے ہوئے تھے جب کہ ان کے پرکشش چہرے پر ترشی ہوئی داڑھی مونچھیں انتہا ئی خوبصورت لگ رہی تھیں۔ اس تصویر کو دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ جہاں ایسے لوگ موجود ہوں وہاں میری دال نہیں گلنے والی۔

امیتابھ بچن نے لکھا کہ بات کرتے وقت ششی کپور کالہجہ اتنا نرم اور دھیما ہوتا کہ سننا مشکل ہوجاتا میں نے اپنا تعارف خود کروانے کی عادت ان سے سیکھی۔ وہ اپنا ہاتھ بڑھاتے اور آنکھوں میں ایک چمک کے ساتھ مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کرواتے۔

بالی ووڈ کے شہنشاہ نےاعتراف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی شخصیت کی پہچان ان کے بالوں کا ہیئراسٹائل دراصل ششی کپور کی نقل ہے۔ ششی کپور کے بال تھوڑے گھنگھریالےتھے جو ماتھے اور کانوں پر گرتے تھے جس سے میرے دل میں خیال آیا کہ مجھے بھی ایسا ہی ہیئر اسٹائل اپنانا چاہیے جس کے بعد میں تاج ہوٹل کے ہیئرڈریسر حکیم کے پاس گیا اور ششی کپور جیسا ہیئراسٹائل بنوالیا۔

واضح رہے کہ امیتابھ بچن کی شخصیت میں ان کے بالوں کا ہیئراسٹائل بہت اہم ہے ۔یہاں تک کہ ان کے مداح امیتابھ سےاپنی محبت ظاہر کرنے کے لیے ایسا ہی ہیئر اسٹائل رکھتے ہیں۔

The post امیتابھ بچن کا ہیئر اسٹائل ششی کپور کی نقل appeared first on ایکسپریس اردو.