’’آوارہ اور عیاش‘‘ جان ہسٹن کا تذکرہ

مئے نوشی، رقص و سرود کی محفلیں اور جوئے کا شوق ایسا تھاکہ جان ہسٹن کی اکثر شامیں شور شرابا اور ہلڑ بازی کرتے گزر جاتیں۔ وہ اور اُس کے دوست نصف شب اپنے گھر کی راہ لیتے۔

جان ہسٹن کی آنکھ کھلتی تو اگلے دن کا سورج ڈوبنے کو ہوتا، تب وہ ایک مرتبہ پھر باہر جانے کی تیاری شروع کر دیتا۔ یہ اس نوجوان کی زندگی کا ایک رُخ ہے۔

دوسری طرف یہی جان ہسٹن گُھڑ سواری کا ماہر، باکسنگ کا کھلاڑی اور فائن آرٹ کا شوقین تھا۔ فنون لطیفہ میں دل چسپی پیدا ہوئی تو انگریزی اور فرانسیسی ادب پڑھنا شروع کیا۔ مطالعے نے فکر کو پختگی اور خیال کو وسعت دی۔ یوں لکھنے کی طرف مائل ہوا۔ فیچر رائٹنگ اور کہانیوں سے قلمی سفر کا آغاز کیا اور بعد کے برسوں میں اس کا نام منفرد اور باکمال فلم ڈائریکٹر اور اسکرپٹ رائٹر کے طور پر ہالی وڈ میں گونجا۔ فلمی دنیا میں 46 برس کے طویل سفر میں متعدد اعزازات اپنے نام کیے، اور خوب شہرت سمیٹی۔

جان ہسٹن کو ایک غیرمعمولی شخصیت کہا جاسکتا ہے۔ اس کی زندگی کے ابتدائی برس تنہائی اور کرب کا شکار رہے۔ والدین میں علیحدگی کے بعد اسے بورڈنگ ہاؤس میں رہنا پڑا۔ انہی دنوں دل اور گردے کی مختلف طبی پیچیدگیوں اور امراض کا شکار ہو گیا۔ 5 اگست 1906 کو اس دنیا میں آنکھ کھولنے والے جان ہسٹن نے علاج معالجے کی غرض سے مختلف شہروں میں قیام کیا۔

اسی دوران باکسنگ کا شوق پیدا ہوا اور وہ باقاعدہ رِنگ میں اترا اور کام یابیاں بھی سمیٹیں۔ تاہم ایک مقابلے میں حریف نے ناک توڑی تو اس نے یہ میدان چھوڑ دیا۔ فائن آرٹ میں دل چسپی لی تو تجریدی کام کیا۔ پیرس میں کچھ عرصہ قیام کے دوران پورٹریٹ آرٹسٹ کے طور پر نام کمایا اور ہالی وڈ کے لیے ہدایت کاری ہی نہیں اداکاری بھی کی۔ جان ہسٹن کی مہارت کا شعبہ فلم ڈائریکشن ہے۔ انہوں نے دو مرتبہ آسکر اپنے نام کیا جب کہ پندرہ مرتبہ اس ایوارڈ کے لیے نام زد کیا گیا۔

ہالی وڈ میں ہسٹن کی آمد اسکرپٹ رائٹر کے طور پر ہوئی تھی۔ بعد میں ’’وارنرز‘‘ کے بینر تلے فلم ڈائریکشن شروع کی۔ جان ہسٹن نے Frankie and Johnny کے عنوان سے اسٹیج پلے لکھا تو اس کا معقول معاوضہ مل گیا۔ سوچا اِسی کو ذریعۂ معاش بنایا جائے۔ تب مزید دو شارٹ اسٹوریز Fool اور Figures of Fighting Men منظرِ عام پر آئیں اور ایک امریکی میگزین کی زینت بنیں۔ یہ 1929 کی بات ہے۔ اس کے بعد جان ہسٹن فیچر رائٹر کے طور پر سامنے آئے اور دی نیویارک ٹائمز کے صفحات پر جگہ پائی۔ ان کی زندگی کا بدترین اور افسوس ناک دن وہ تھا جب ان کی کار سے ٹکرا کر ایک راہ گیر عورت اپنی زندگی سے محروم ہو گئی۔ مقدمہ چلا تو جان ہسٹن بے قصور قرار پائے، مگر ذہن اور دل پر ایسا بوجھ تھا جس نے برسوں ان کی جان نہ چھوڑی۔

مہم جوئی، جنگ و جدل، اجنبی راستوں اور نئی منزلوں کے سفر سے جڑے سنسنی خیز واقعات کی عکاسی جان ہسٹن کو محبوب رہی۔ ان کی زیادہ تر فلمیں مشہور ناولوں سے ماخوذ ہیں۔ The Maltese Falcon، Wise Blood ، The Misfits، The African Queen جیسی لازوال فلموں سے شائقین اور ناقدین کو اپنی جانب متوجہ کرنے والے ہسٹن کی زندگی کا باب 28 اگست 1987 کو ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

The post ’’آوارہ اور عیاش‘‘ جان ہسٹن کا تذکرہ appeared first on ایکسپریس اردو.