بھارت میں لوگ فنکاروں کو دھمکیاں دے کر فخرمحسوس کرتے ہیں، بھارتی ہائی کورٹ

ممبئی: بھارتی ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں  فلمسازوں اور فنکاروں کو کھلے عام دھمکیاں دے کر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جسٹس ایس سی دھرمادھیکاری اور جسٹس بھارتی ڈھانگرے پر مشتمل ممبئی ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ نے 2013 اور 2015 میں قتل ہونے والے دو مصنفین کے قاتلوں کی عدم گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا ہے کہ  دوسرے ممالک میں فنکاروں اور آرٹسٹوں کو دھمکیاں دی گئی ہوں۔ یہ سننے میں بہت عجیب لگتا ہے کہ ایک شخص نے فیچر فلم بنائی اور بہت سارے لوگوں نے اسے بنانے میں حصہ  لیا لیکن وہ شخص اپنی فلم کو مسلسل ملنے والی دھمکیوں کے باعث لوگوں کو دکھا نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں ایک فیچر فلم ریلیز نہیں ہوسکتی۔ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: عدالتی محاذ پر ’’پدماوتی‘‘ کو پہلی کامیابی

جسٹس دھرمادھیکاری نے ریمارکس دیئے کہ فلمسازوں اور فنکاروں کو کھلے عام دھمکیاں دی جاتی ہیں اور نہ صرف اسے ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا ہے بلکہ دھمکیاں دینے والے اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ کوئی شخص کھلےعام فنکاروں، آرٹسٹوں اور اداکاروں کو قتل کرنے پر انعام کا اعلان کردیتا ہے، یہاں تک کہ ریاست کے وزرائے اعلیٰ تک فلم کی ریلیز کو اجازت نہ دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ اسے آزادی اظہار پر ایک الگ قسم کی پابندی کہا جاسکتا ہے، یہ سب کچھ  امیر لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے تو غریبوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوتا ہوگا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: پدماوتی نے ریلیز سے پہلے ہی انسانی جان کی بھینٹ لے لی

جج نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ بھارت میں ایسی صورتحال چاہتے ہیں جہاں لوگ اپنے خیالات کا اظہار نہ کرسکیں تو ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے، ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن جو شخص اپنی آواز اٹھاتا ہے اسے تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے، ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور اس قسم کی حرکتوں پر فخر محسوس نہیں کرسکتے۔

The post بھارت میں لوگ فنکاروں کو دھمکیاں دے کر فخرمحسوس کرتے ہیں، بھارتی ہائی کورٹ appeared first on ایکسپریس اردو.