ممبئی کے اسٹوڈیو میں آتشزدگی سے راج کپور کے تاریخی ملبوسات جل کر راکھ

راج کپو اسٹوڈیو میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ فوٹو: فائل

راج کپو اسٹوڈیو میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ فوٹو: فائل

ممبئی کے فلم اسٹوڈیو میں لگنے والی خوفناک آگ نے ماضی کے معروف بھارتی اداکار راج کپور کی جانب سے فلموں میں استعمال کیے گئے تاریخی ملبوسات جلا کر راکھ کر دیے۔

راج کمار اسٹوڈیو کا سنگ بنیاد اداکار راج کپور نے 1948 میں اپنے ہاتھوں سے رکھا تھا اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہاں جو پہلی فلم شوٹ کی گئی تھی اس کا نام بھی ’’آگ‘‘ تھا۔ ممبئی میں واقع اس تاریخی اسٹوڈیو کے اس حصے میں آگ لگی جہاں ریئلٹی شو ’’سپر ڈانس سیزن 2‘‘ کا سیٹ لگا ہوا تھا تاہم خوش قسمتی سے اس وقت شوٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔

اب اس اسٹوڈیو کا انتظام راج کپور کے بیٹے رندھیر کپور اور رشی کپور سنبھال رہے ہیں۔ رشی کپور نے اس سلسلے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ آگ کی وجہ سے اسٹوڈیو کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیوں کہ اس میں راج کپور کے تاریخی ملبوسات بھی جل گئے ہیں، اسٹوڈیو تو دوبارہ تعمیر ہوجائے گا لیکن یادگاری اشیاء واپس نہیں لائی جا سکتیں۔

رشی کپور نے مزید بتایا کہ آگ کے نتیجے میں اسٹوڈیو کا تاریخی اسٹیج نمنر ایک بھی تباہ ہو گیا ہے تاہم خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی اور چونکہ اسٹوڈیو میں جلد آگ پکڑنے والا سامان موجود تھا اس لیے آگ تیزی سے پھیلی۔

خیال رہے کہ راج کپور اسٹوڈیوز کے بینر تلے بالی ووڈ کی کئی تاریخی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں جن میں برسات (1949)، آوارہ (1951)، بوٹ پالش (1954)، شری 420 (1955) بھی شامل ہیں۔