پریانکا نے جنسی ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانے کی بھاری قیمت چکائی

کچھ پروجیکٹس سے باہر نکالے جانے پر آپ کی زندگی ختم نہیں ہوجاتی، والدہ پریانکا۔ فوٹوفائل

کچھ پروجیکٹس سے باہر نکالے جانے پر آپ کی زندگی ختم نہیں ہوجاتی، والدہ پریانکا۔ فوٹوفائل

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کی والدہ نے اپنی بیٹی کے ماضی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریانکا نے کئی مواقعوں پر جنسی ہراسانی اورفلمسازوں کےغلط اقدام کے خلاف آواز اٹھائی جس کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔

جب سے ہالی ووڈ فلمساز اور پروڈیوسرہاروی وائن اسٹین کے کرتوت منظرعام پرآئے ہیں ہالی ووڈ سمیت دنیا بھرکی اداکاراؤں میں ہمت آگئی ہے اور اداکارائیں اپنے ساتھ ہونےوالی زیادتیوں پرآواز اٹھا رہی ہیں۔نامور ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی سمیت متعدد اداکاراؤں نے ہاروی کے کرتوت میڈیا کےسامنے لانے میں اہم کرداراداکیا، جب کہ سابق ملکہ حسن اداکارہ ایشوریا رائے کی مینجر نے بھی انکشاف کرتے ہوئے تھے کہا تھا کہ ہاروی وائن اسٹین نے کئی بار ایشوریا رائے کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم خوش قسمتی سے ایشوریا ہاروی کا شکار ہونے سے بچ گئیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ایشوریا پروڈیوسر کی درندگی کا شکار ہونے سے بچ گئیں

نامور بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا تو ہاروی وائن اسٹین کی درندگی کا شکار نہ ہوسکیں تاہم بالی ووڈ میں انہیں کئی بار جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ پریانکا چوپڑا کی والدہ مدھو چوپڑا نے ایک انٹرویو کے دوران اپنی بیٹی کو کیرئیر کی ابتدا کے دوران آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی نے صرف 17 سال کی عمر میں فنی کیرئیر کا آغاز کیا، اس وقت پریانکا بہت کم عمر تھی اور مجھے ہر وقت اس کی فکر لگی رہتی تھی لہٰذا میں اسے کہیں بھی اکیلے جانے نہیں دیتی تھیاور فلمسازوں سے ملاقات کے دوران باہر بیٹھی رہتی تھی۔

ملاقات کے دوران کئی فلمسازوں نے پریانکا سے کہا آپ کی والدہ بیٹھی ہیں ہم آپ کو کہانی کیسے سنائیں جس پر پریانکا نے جواب دیا کہ اگر کہانی ایسی ہے جسےمیری والدہ نہیں سن سکتیں یا آپ اسے میری والدہ کے سامنے نہیں سناسکتےتو میں ایسی کسی فلم میں کام نہیں کروں گی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: پریانکا کو18سال کی عمرمیں کس تکلیف سےگزرناپڑاتھا؟

مدھو چوپڑا نے مزید کہا کہ ابتدامیں ڈیزائنرزاور ہدایت کاروں نےبھی  پریانکا کو نامناسب لباس پہننےپر مجبور کیا لیکن میری بیٹی نے ہمیشہ قابل اعتراض لباس پہننے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اسے 10 فلموں سے باہر نکال دیا گیا۔ کیرئیر کی ابتدا میں اتنی بڑی تعداد میں بڑے بینر کی فلموں سے نکالے جانے پر میری بیٹی نے بہت بھاری قیمت چکائی اور اسے کم کام ملا لیکن اس نے کبھی اپنی عزت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا کیونکہ کچھ پروجیکٹس سے باہرنکالے جانے پر آپ کی زندگی ختم نہیں ہوجاتی۔

مدھو چوپڑانے پریانکا کے ہالی ووڈ میں کام کرنے کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ایک بار پریانکا کے والد نے اس سے پوچھا تھا کہ ہالی ووڈ میں کام کرتے ہوئے کوئی پریشانی تو نہیں جس پر پریانکا نے فوراً جواب دیا کہ وہاں اسے بہت عزت دی جاتی ہے، اگر آپ زندگی اپنی شرطوں پر جینا چاہتے ہیں تو ابتدا میں تھوڑی کوشش اورمحنت زیادہ کرنی پڑتی ہے لیکن اس کا نتیجہ بہت اچھا آتاہے۔ مدھو چوپڑا نے پریانکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میری ہر لڑکی کو نصیحت ہے کہ اگرآپ نے اپنی زندگی اورعزت سے سمجھوتہ نہیں کیا تو ایک خوبصورت زندگی آپ کی منتظر ہوگی۔